Sunday, May 6, 2012

SAUGOR--ساگر


  میں نے تصویر بڑی کرائی ہے مگر انگریزی کا لکھا ہوا ابھی بھی ٹھیک نظر نہیں آتا اوپر ہیندی میں  اور اس کے نیچَ انگریزی میں لکھا ہے ایس اے یو گی او آر ساگر

Friday, May 4, 2012

گرمیوں میں چائے


 اس میں کوئ شک نہیں کہ تصویر چھوٹی ہے مجھے یہ آرٹ اچھی طرح نہین آتا م
مگر جناب گرمیوں کے موسم میں آفٹر نون ٹی کا مزا لیتے ہوئے یہ تصویر لی گئی ہے میں غالبا" ایف ایس سی میں تھا چھٹیوں میں کوٹلے آیا ہوا تھا اور ذاہد میاں بھی آئے تھے جنھیں اس چائے کا شوق تھا
 اسمارٹ تو لگ رہا ہوں
 مقولہ ہے کہ
 گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے
Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Saturday, April 14, 2012

گائوں کے اسکول میں

  یہ تو درست ہے کہ میں بہت پرانی بات کر رہا ہوں مگر یوںہی خیال آیا۔
امریکہ میں رہتے ہوئے سکولوں کی کھیلیں دیکھتا ہوں ہر قسم کے فرسٹ کلاس گرائونڈ فٹ بال باسکٹ بال اور نہ جانے کیسے کیسے کھیلوں کے لئے سارے اسباب موجود اور بچّے کبھی یہ خیال بھی نہیں کرتے کہ یہ سب کہاں سے آتا ہے۔ میں اپنے گائوں کے سکول کا سنا رہا ہوں جو مڈل تھا اور ہائ ہو گیا اس وقت پی ٹی ماسٹر بھی آگئے اور پڑھنے لکھنے کے علاوہ کھیلوں کی طرف توجہ کی گئ مجھے یاد ہے کہ بڑا عجیب لگ رہا تھا کھیلوں کی طرف اتنا دھیان کیوں دیا جا رہا ہے خیر ایک والی بال اور نیٹ منگوایا گیا اور دو بڑے باںس کے کھمبے لگا دئے گئے اور باقاعدہ والی بال کھیل شروع ہو گیا میری یعنی سینئر کلاس میں ٹین ایجر اور بڑے جسم والے لڑکے تھے اور شوق سے کھیلنا چاہتے تھے مگر جس طریقہ سے اس نہائت مختصر سامان کا خیر مقدم کیا گیا تھا وہ نہیں بھولتا۔ غریب کے لئے کتنی بڑی نعمت تھی اور سارے بچّے خوش تھے اور احتیاط سے اس سامان کی حفاظت کرتے اب ککرالی ہائ سکول کی اپنی والی بال ٹیم تھی اور دوسرے سکولوں سے مقابلہ کرنا تھا پریکٹس باقاعدہ ہونے لگی



Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Sunday, March 25, 2012

سرورق کی نئی تصویر

 ِہ تقریبا" ساڑھے تین سال کی عمر ہے
 شلوار قمیص چلتی تھی لیکن قمیص کے کالر سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھر کی سنگر مشین پر کپڑے تیار کئے گئے ہیں بڑی آپا اور چھوٹی آپا سلائی کی پشق کر لیتی تھیں اور ہم غریبوں کے لباس تیار ہو جاتے تھے اسی لئے میری بڑی بہنیں کہتی ہیں مجھے نئے کپڑے پہننے کا بہت شوق تھا
 'نئے نئے کاپلے' میری بچپن کی زبان میں ہے مگر مجھے یہ الفاظ یاد نہیں


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, March 21, 2012

۲۱ مارچ

 موسم بہار کا شروع آج کا دن سمجھا جاتا ہے
واقعی آس پاس کے پودوں درختوں وغیرہ میں کوںپلیں پھوٹتی نظر آرہی ہیں اور اس تبدیلی کا احساس دلا رہی ہیں خنکی میں ہلکی ہلکی گرمی آ رہی ہے۔
خیر میں تو ابھی حال میں ہی مکّہ المکرّمہ  اور مدینہ المنوّرہ کی سیر کرتا آیا ہوں جہاں موسم قدرے گرمی مائل تھا
زمزم کا حال اپنے انگریزی بلاگ میں لکھ چکا ہوں اچھا خاصا رش تھا ہم نے ایک ہفتہ گزارا صحن بھرا رہتاتھا اور طواف کم ہوتا نہیں ملا رکن یمانی کو اشارہ ہی کرتے رہے وہاں ہاتھ لگانے کے لیئے تقریبا" حجر اسود والا جمگھٹا تھا اور مجھے دھکے پسند نہیں نہ میری عمر اجازت دیتی ہے۔ مقام ابراہیم پہ بھی جمگھٹا رہتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ آپ جھانکنا چاہیں تو نہ کر سکیں مسلمان جوش میں حدود پہ قائم نہیں رہ سکتے۔ مقام ابراہیم پہ میں نے ایک عورت کو سجدہ کرتے دیکھا جو بجائے کعبہ کیطرف سجدہ کرنے کے مقام ابراہیم کو سجدہ کر رہی تھی اسی طرح چوںکہ ملتزم کی جگہ ہر وقت بھری رہتی ہے تو کعبہ کی ساری دیواروں پہ لوگ سر رکھے دعائیں کرتے رہتے ہیں حطیم میں ہم نہ جا سکے سعی کے لیئے وہیل چیئر کا سودا کرنا پڑتا ہے اس میں کوئی سٹینڈرد نہیں جیسا حلق یا قصر کے لئے ہے مانگنے والوں کا قصّہ پرانا ہے صرف اپاہج لوگ ہی دیکھے اور وہ بچّے تھے مجھے بتایا گیا کہ وہ بچے کی ٹہنی ایسے طریقے سے دہری کرکے باندھتے ہیں جیسے کٹی ہوئی ہو۔ لیکن اب اتنے زیادہ نہیں جتنے پہلے ہوا کرتے تھے زمزم لیجانے کی اجازت ہے لیکن اپنے گھرون کو یا دوسرے ملک کو نہیں لیجانے دیتے گورنمنٹ نے بند کردیا ہے زمزم دکانوں پر بھی نہیں ہے اب یہ بھی دیکھا کہ جوتے رکھنے کے لئے پلاسٹک کی تھیلیاں ملتی ہیں اپنی تھلیاں بھی لوگ لاتے ہیں مگر وہ ہوائی  یا انگوٹھے والی چپلوں کا رواج پرانا ہی ہے میں اپنی ہوائی چپل لیکر تنعیم مسجد گیا دو نفل پڑھ کے احرام کی عمرے کی نیت کی اور باہر نکلا تو مجھے اپنی چپل نہ ملی ایک اور چپل پہن کر مسجد حرام لے آیا اور وہاں چھوڑ دی یعنی ڈونیٹ کردی
 اس بات کا فسوس ہوا کہ اس وقت صحن میں عورتوں کو نماز کے لئے جگہ نہیں دی جاتی طواف کے لئے وہاں جانے کی اجازت ہے نئی اور ماڈرن عمارات وغیرہ سب نے مل کے خوبصورت جگہ بنا دی ہے مگر کعبہ پر اس بڑے برج-ہلٹن ٹاورز-  کا زیادہ اثر ہے کعبہ چھوٹا لگنے لگا ہے سعی کے لئے چار منزلیں بن گئی ہیں مگر اب صفا پہ چڑھ کر کعبہ نظر نہیں آتا میلین اخضرین پر دوڑنے سے مجھے پھر امّاں جی یاد آئیں اور وہ احساس ہوا کہ اللہ تعالےا نے ایک ماں کی بچے کے لئے بیچینی اضطراب اور تڑپ کو کیوں ایک رکن بنا دیا

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Wednesday, February 29, 2012

انتیس فروری

 ایسی تاریخ چونکہ چار برس کے بعد آتی ہے اس لئے کچھ لکھنا چاہیئے وقت زیادہ نہیں مگر اتنا ہے کہ صبح سفر پہ نکلنے سے پہلے کچھ کہتا چلوں ابھی تو بچوں کے پاس جائیں گے لیکن ارادہ عمرہ پہ جانے کا ہے تو مارچ کے وسط مین واپسی ہوگی کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں ٹیکے لگوائو ویزا لگوائو اور پھر ہوٹلوں کا چکّر اتنے مہنگے ہو چکے ہیں کہ لگتا ہے سعودی گورنمنٹ غریب آدمیوں کو حج سے محروم کرنے کا پورا انتظام کر رہی ہے اللہ سے دعا کرنی ہے کہ مسلمانوں کو عقل دے اور اپنے خاندان اور دوستوں کے لئے تو کرنی ہی ہیں بہت سی دعائِن بس اپنے لئے تو یہی کافی ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالےا ہماری عبادتیں اور عمرے قبول کر لے اور ہمارا خاتمہ صالحین کے ساتھ کرے آمین

Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/

Friday, February 17, 2012

ستّرہ فروری

 نہ معلوم کیوں یہ تاریخ مجھے یاد آتی ہے۔ بھایجان معراج اور بھابی نسیم کی شادی آج کے روز سیالکوٹ میں ہوئ تھی ساٹھ سال پہلے- --یہ ایسا روز تھا جب مجھے زندگی میں پہلی بار اپنا سوٹ ملا جو خاص اس روز کے لئے بنوایا گیا تھا ہماری زندگی میں مشرقی اطوار کم ہو رہے تھے اور مغربی طریقے آتے جا رہے تھے یعنی ہمارے گھرانے میں یہ تبدیلیاں آ رہی تھیں اسی وجہ سے جب بھایجان معراج نے نیا گھر سٹلائٹ ٹاون میں بنوایا اور جب اس میں صوفہ سیٹ رکھا گیا تو وہ بھی مجھے یاد ہے کیوںکہ یہ ہمارے گھرانے کا پہلا صوفہ تھا- اللہ سے دعا ہے کہ وہ بھایجان معراج اور بھابی نسیم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین


Please visit my English blog at http://saugoree.blogspot.com/